افسوس اس قوم پر جس کی رہبر لومڑی ہو
جس کا فلسفی مداری ہو
جس کا فن پیوندکاری اور نقالی ہو
افسوس اس قوم پر جو ہر نئے حکمران کا استقبال
ڈھول تاشے سے کرےاور رخصت گالم گلوچ سے
اور وہی ڈھول تاشے ایک نئے حاکم کے لیے بجانا شروع کر دے.
افسوس اس قوم پر جس کے مدبر برسوں کے بوجھ تک دب گئے ہوں
اور جس کے سورما ابھی تک پنگھوڑے میں ہوں.
افسوس اس قوم پر جس کے رہنما جھوٹے ہوں
اور دانا خاموش.
افسوس، صد افسوس ان لوگوں کی قوم پر
جو اپنے حقوق کو غصب ہونے دیتی ہے.
(خلیل جبران)
Pages
▼
کیسے بیاں کروں میں وہ ظلم کا منظر
کیسے بیاں کروں میں وہ ظلم کا منظر تھے انتظار میں وہ لٹیرے وہ ستمگر
کھاتیں ہیں ہو جو حرام یہودی کے وہ نوکر کہنے کو سرحدوں کے جیالے وہ سولجر
معصوم چیچنوں کو قتل اس طرح کیا بچہ بھی ماں کے پیٹ میں دیتا تھا بد دعا
No comments:
Post a Comment