عارف کی ڈائری | Arif's Diary
افسوس اس قوم پر جس کی رہبر لومڑی ہو جس کا فلسفی مداری ہو جس کا فن پیوندکاری اور نقالی ہو افسوس اس قوم پر جو ہر نئے حکمران کا استقبال ڈھول تاشے سے کرےاور رخصت گالم گلوچ سے اور وہی ڈھول تاشے ایک نئے حاکم کے لیے بجانا شروع کر دے. افسوس اس قوم پر جس کے مدبر برسوں کے بوجھ تک دب گئے ہوں اور جس کے سورما ابھی تک پنگھوڑے میں ہوں. افسوس اس قوم پر جس کے رہنما جھوٹے ہوں اور دانا خاموش. افسوس، صد افسوس ان لوگوں کی قوم پر جو اپنے حقوق کو غصب ہونے دیتی ہے. (خلیل جبران)
Pages
▼